کوئی دل بھی نفرت سے خالی نہیں ہے
خدا! تیری دنیا مثالی نہیں ہے
اذانوں کی رسمیں ادا ہو رہی ہیں
مگر ان میں جوشِ بلالی نہیں ہے
میرے عہد کے عالموں کی نہ پوچھو
کوئی بھی تو ان میں غزالی نہیں ہے
چمن جو محبت کا سُوکھا پڑا ہے
یہ وہ باغ ہے جس کا مالی نہیں ہے
حقیقت ہے رنگِ سخن میں نمایاں
میری شاعری تو خیالی نہیں ہے
فوزیہ مغل
No comments:
Post a Comment