اب دیکھا جائے تو یہ خسارہ تھا ہی نہیں
وہ ہاتھ سے گیا جو ہمارا تھا ہی نہیں
اس کے بنا وہی میں بھلا کیسے زندہ ہوں
جس کے بغیر اپنا گزارہ تھا ہی نہیں
تنگ آ کے ہی اٹھایا ہے اتنا بڑا قدم
اس کے علاوہ تو کوئی چارہ تھا ہی نہیں
بدلاؤ کوئی آیا ہوا تھا وہاں ضرور
ایسا معاملہ تو دوبارہ تھا ہی نہیں
یہ سب ہمارے ذہن کی ہی اختراع ہے
اس کا تو ایسا ویسا اشارہ تھا ہی نہیں
اُس نے بچا کے رکھا ہوا تھا الگ بھی کچھ
وہ میرے ساتھ سارے کا سارا تھا ہی نہیں
اک بار ہامی بھر کے ذرا دیکھتے مجھے
آگے کا مسئلہ تو تمہارا تھا ہی نہیں
گر جیتنے کے معنی روایت سے ہٹ کے لیں
پھر تو میں آج تک کبھی ہارا تھا ہی نہیں
پھر کیوں بنائے تھے بڑے منصوبے میرے ساتھ
جب ویسے کر دکھانے کا یارا تھا ہی نہیں
تھوپا گیا ہے ہم پہ زبردستی کافی کچھ
اک لمحے کے لیے جو گوارا تھا ہی نہیں
کرنے پڑے ہیں ایسے بھی کچھ کام گُل فراز
جن میں ہمیں کبھی کوئی وارا تھا ہی نہیں
گل فراز
No comments:
Post a Comment