Tuesday, 6 July 2021

اب دیکھا جائے تو یہ خسارہ تھا ہی نہیں

 اب دیکھا جائے تو یہ خسارہ تھا ہی نہیں

وہ ہاتھ سے گیا جو ہمارا تھا ہی نہیں

اس کے بنا وہی میں بھلا کیسے زندہ ہوں

جس کے بغیر اپنا گزارہ تھا ہی نہیں

تنگ آ کے ہی اٹھایا ہے اتنا بڑا قدم

اس کے علاوہ تو کوئی چارہ تھا ہی نہیں

بدلاؤ کوئی آیا ہوا تھا وہاں ضرور

ایسا معاملہ تو دوبارہ تھا ہی نہیں

یہ سب ہمارے ذہن کی ہی اختراع ہے

اس کا تو ایسا ویسا اشارہ تھا ہی نہیں

اُس نے بچا کے رکھا ہوا تھا الگ بھی کچھ

وہ میرے ساتھ سارے کا سارا تھا ہی نہیں

اک بار ہامی بھر کے ذرا دیکھتے مجھے

آگے کا مسئلہ تو تمہارا تھا ہی نہیں

گر جیتنے کے معنی روایت سے ہٹ کے لیں

پھر تو میں آج تک کبھی ہارا تھا ہی نہیں

پھر کیوں بنائے تھے بڑے منصوبے میرے ساتھ

جب ویسے کر دکھانے کا یارا تھا ہی نہیں

تھوپا گیا ہے ہم پہ زبردستی کافی کچھ

اک لمحے کے لیے جو گوارا تھا ہی نہیں

کرنے پڑے ہیں ایسے بھی کچھ کام گُل فراز

جن میں ہمیں کبھی کوئی وارا تھا ہی نہیں


گل فراز

No comments:

Post a Comment