وہ واعظ کا اِترانا
وہ مقصد بُھول ہی جانا
وہ نقد پہ خدمتِ دِین
اب آیا سب کو یقین
سب کھوٹے سجدے عبث ہوئے
گھر اپنے قیدی سب ہوئے
جوتوں کی فکر میں کھویا خشوع
تنگی وقت میں کھویا خزوع
اور جُھوٹی شان میں کھویا وضو
ہم خود سے باغی جب ہوئے
اور اللہ کے دُشمن تب ہوئے
ایک حرکتِ شقل سے بگڑی بات
ٹُوٹے سب دل کے لات و منات
ہر دل میں آئی بس ایک بات
رحمان و رحیم اللہ کی ہے ذات
کسی شخص میں ہوں کیسے یہ صفات
کُن اللہ سے ہے اور پھر فیکُون
ہر صاحب کی حثیت موزوں
لا اختیار ہیں سب معبود
وہ ظاہر و باطن ہے موجود
پھر اور کسی سے کیسا رجوع
وہ مالک ہے پھر کیسا وجوع
آؤ لا الہ الااللہ کی طرف آؤ
متلاشی ہو تو بُھول جاؤ
دُنیا میں قبر و حشر میں اللہ
اور ساجی ساتھی نہیں کوئی واللہ
اللہ کے نبیﷺ پہ ہے ایمان
سب عالمین میں اس کی شان
ہے قرضدار ان کا میرا وجود
پڑھتا ہوں پنج وقت اُن پہ درودؐ
سایل بشیر وانی
سائل بشیر وانی
No comments:
Post a Comment