کریں ایک دُوجے کو سجدہ
خدا یافتہ سب مذاہب
ابھی تک
اسی خُشک برگد کے نیچے کھڑے ہیں
جہاں ہم نے اک دوسرے کو
بہت سارے سجدے کیے تھے
پہاڑوں کا پیدائشی دُکھ سمجھنے کا کلیہ
کہاں ہے؟
کتابوں کے سینے کھنگالو
سبھی فلسفوں کے مباحث کے آوازی شجرے ٹٹولو
کہ شاید وہ ہچکی
وہ آنسو برآمد ہوں
جن کے کسی طاقچے میں پڑا ہے وہ رستہ
جو پتھر کی ترکیب کے سب عناصر کی
ساری کتھا جانتا ہے
تمہیں جھیل کے خواب سننے کی عادت نہیں ہے
مگر میں ابھی تک
اسی آنکھ میں قید
صدیوں کی حیرت میں لپٹا ہوا ہوں
جہاں زندگی کے معانی
ہماری زمیں سے بہت مختلف ہیں
سنا ہے صحیفہ اُترنے کا موسم
مِرے گھر کی کھڑکی کے باہر کھڑا ہے
وہ اندر تو آئے، مگر شرط ہے
ایک دُوجے کو سجدہ
خدا بے نیازی کی حد ہے
مگر وہ اصولوں پہ سمجھوتا کرنا نہیں جانتا ہے
گل جہان
No comments:
Post a Comment