Tuesday, 6 July 2021

اسی گمان میں اکثر مکاں بدلتے ہیں

 اِسی گُمان میں اکثر مکاں بدلتے ہیں

زمیں بدلتی ہے تو آسماں بدلتے ہیں

ہمی تو ہیں جو تجسس بھری نگاہوں سے

تمام شب کی پریشانیاں بدلتے ہیں

اسی لیے تو تِرے در پہ گِر گیا تھا میں

میں جانتا تھا مقدر یہاں بدلتے ہیں

تِری نگاہ سے قوسِ قزح نکلتی ہے

وگرنہ دشت کے منظر کہاں بدلتے ہیں

وہ جب یہاں تھا تو ہم دیکھتے نہ تھے اس کو

وہ جا رہا ہے تو ہم کھڑکیاں بدلتے ہیں


تجمل کاظمی

No comments:

Post a Comment