Monday, 24 August 2020

اظہار حال سن کے ہمارا کبھی کبھی

اظہار حال سن کے ہمارا کبھی کبھی 
وہ بھی ہوئے ہیں انجمن آرا کبھی کبھی 
میں اور عرض شوق مِری کیا مجال ہے 
ہوتا ہے اس طرف سے اشارا کبھی کبھی 
راہِ طلب میں اور کوئی رہنما نہیں
دیتی ہیں لغزشیں ہی سہارا کبھی کبھی 
سنتا ہوں مجھ سے چھٹ کے نہیں وہ بھی مطمئن
نظروں کو ڈھونڈھتا ہے نظارا کبھی کبھی
آیا شبِ فراق وہ ہنگامِ بے کسی
خود اپنا نام لے کے پکارا کبھی کبھی
سچ ہے کہ راحتیں ہی نہیں حسنِ زندگی
غم نے بھی زندگی کو سنوارا کبھی کبھی 
یوں طے ہوئے شجیع محبت کے راستے
بڑھ بڑھ کے منزلوں نے پکارا کبھی کبھی 

معظم جاہ شجیع

No comments:

Post a Comment