Monday, 24 August 2020

اس وجود روشن سے ہر طرف اجالا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

اس وجودِ روشنﷺ سے ہر طرف اجالا ہے
چاند اس کا پرتو ہے سورج اس کا ہالہ ہے
فکر و ذکر بھی اس کا، ہجر و وصل بھی اس کا
بس اسی کی چاہت ہے،۔ بس وہی حوالہ ہے
سب کے سب جہانوں میں اس کی حکمرانی ہے
سب کے سب زمانوں میں اس کا بول بالاہے
تم فنا بقا جانو، ایک بات تو مانو
وہ بلند و بالا تھا، وہ بلند و بالا ہے
لب پہ ذکر جاری ہے، وجد و کیف طاری ہے
مصطفیﷺ کی محفل کا، رنگ ہی نرالا ہے
زندگی جہاں بھی ہے، اس کے نام لیوا ہیں
فرش و عرش سے بالا، اس کا بول بالا ہے
ما ورا ہے ذات اس کی، بیکراں صفات اس کی
دھوم شش جہات اس کی، وہ حدوں سے بالا ہے
نور کی جو بارش ہے، اس کے رخ کی تابش ہے
سانس کی جو مالا ہے، ذکر حق تعالیٰ ہے


تابش الوری

No comments:

Post a Comment