کس کے نغمے گونجتے ہیں زندگی کے ساز میں
اک نئی آواز♯ شامل ہے مِری آواز♯ میں
میرے گھر میں چھا رہی تھی شام غم کی تیرگی
جب اجالا🌞 ہو رہا تھا جلوہ گاہِ ناز میں
میں اگر خاموش ہوں خاموش رہنے دیجیے
ہم نے دیکھے ہیں کچھ ایسے بھی اسیران چمن
جن کی ساری عمر گزری حسرت پرواز میں
تم نہ ہوتے اس قدر رسوا زمانے مییں شجیع
سوچ لیتے عشق کا انجام اگر آغاز میں
معظم جاہ شجیع
No comments:
Post a Comment