گفتگو میں زہر ہے اور لہجہ پر تضحیک ہے
تم خدا لگتی کہو، کیا یہ رویہ ٹھیک ہے؟؟
آنکھ بھر کے ایک مدت سے جسے دیکھا نہیں
وہ ستم گر کس قدر دل سے مِرے نزدیک ہے
ایک غم قسمت نے جیسے دھر دیا قرطاس پر
کل پھر اس کے نام پر اک اور پتھر رکھ دیا
ہم گداگر بھی نہیں ہیں، نہ محبت بھیک ہے
اک ہوا ایسی چلی جو عکس دھندلا کر گئی
بال شیشے پر جو اترا، بال سے باریک ہے
سعدیہ بشیر
No comments:
Post a Comment