Monday, 24 August 2020

دل کو سیراب کیا اور نہ پیاسا رکھا

دل 💗 کو سیراب کیا اور نہ پیاسا رکھا
ہم نے دریا سے عجب جبر کا رشتہ رکھا
شوق تو اس کو بھی تھا بھیڑ میں کھو جانے کا
جانے کیا سوچ کے اس نے مجھے تنہا رکھا
تیری سانسوں کی مہک آئے جہاں سے آئے
ہم نے دیوار میں ہر سمت 🚪 دریچہ رکھا
عزم  رکھے تو  فصیلوں کے سروں پر رکھے
زخم رکھا، تو سمندر سے بھی گہرا رکھا
جس کی گہرائی میں ہم ڈوب سکیں مر بھی سکیں
ہم نے آنکھوں👁 میں وہ دریا تو ہمیشہ رکھا

سعدیہ بشیر

No comments:

Post a Comment