بدلاؤ
دل کی دھڑکن پگلی تھی
اس کے نام سے چلتی تھی
اور خفگی سے رک جاتی تھی
کچھ برسوں سے دل کو میں نے
وینٹی لیٹر دے رکھا ہے
زہر ہو کچھ خاموشی کا
یا تیر سلگتے لفظوں کے
میری باتیں چھوڑو ساری
دل کی دھڑکن زندہ ہے
اب یہ چلتی رہتی ہے
سعدیہ بشیر
No comments:
Post a Comment