Monday, 24 August 2020

دل کی دھڑکن زندہ ہے

بدلاؤ

دل کی دھڑکن پگلی تھی
اس کے نام سے چلتی تھی
اور خفگی سے رک جاتی تھی
کچھ برسوں سے دل کو میں نے
وینٹی لیٹر دے رکھا ہے

زہر ہو کچھ خاموشی کا
یا تیر سلگتے لفظوں کے
میری باتیں چھوڑو ساری
دل کی دھڑکن زندہ ہے 
اب یہ چلتی رہتی ہے

سعدیہ بشیر

No comments:

Post a Comment