لفظوں میں کچھ آگ ہے شاید
دل میں کوئی راگ ہے شاید
خلقت سرپٹ دوڑ رہی ہے
جہل کے ہاتھوں باگ ہے شاید
من مندر کے سنگھاسن پر
علم و فکر و فن کے در پر
شہرت کی بس جھاگ ہے شاید
روز ہے میلہ یادوں کا بس
دل کو غم سے لاگ ہے شاید
سعدیہ بشیر
No comments:
Post a Comment