ہر وہ ہنگامہ ناگہاں گزرا
دو دلوں کے جو درمیاں گزرا
تم کسی کے نہیں زمانے میں
ہم کو ایسا بھی اک گماں گزرا
جو محبت میں ہم پہ گزرا ہے
نقشِ پا راستہ دکھاتے ہیں
کس کی منزل سے کارواں گزرا
دل کی بیتابیوں پہ وہ چپ تھے
میرا ہنسنا انہیں گراں گزرا
کیا ہوا گلستاں میں، کیا معلوم؟
اس طرف سے بھی کچھ دھواں گزرا
زخمِ دل مسکرا رہے ہیں شجیع
شاید اب موسمِ خزاں گزرا
معظم جاہ شجیع
No comments:
Post a Comment