Saturday, 22 August 2020

جلتا ہوا اک خواب یہاں چھوڑ کے جاؤں

جلتا ہوا اک خواب یہاں چھوڑ کے جاؤں
جنگل میں کوئی اپنا نشاں چھوڑ کے جاؤں
کچھ دیر تو آباد رہیں گے در و دیوار
آنگن میں چراغوں کا دھواں چھوڑ کے جاؤں
دل اس کا نہیں لگتا کہیں میرے علاوہ
میں تیری جدائی کو کہاں چھوڑ کے جاؤں
ممکن ہے مِرے بعد اتر آئے یہاں چاند
اِس شہر کی را توں کو جواں چھوڑ کے جاؤں
لے جاتی ہے مجبوری حسن گھر سے، وگرنہ
کب دل مِرا کہتا ہے کہ 'ماں' چھوڑ کے جاؤں

حسن عباسی

No comments:

Post a Comment