جلتا ہوا اک خواب یہاں چھوڑ کے جاؤں
جنگل میں کوئی اپنا نشاں چھوڑ کے جاؤں
کچھ دیر تو آباد رہیں گے در و دیوار
آنگن میں چراغوں کا دھواں چھوڑ کے جاؤں
دل اس کا نہیں لگتا کہیں میرے علاوہ
ممکن ہے مِرے بعد اتر آئے یہاں چاند
اِس شہر کی را توں کو جواں چھوڑ کے جاؤں
لے جاتی ہے مجبوری حسن گھر سے، وگرنہ
کب دل مِرا کہتا ہے کہ 'ماں' چھوڑ کے جاؤں
حسن عباسی
No comments:
Post a Comment