Saturday, 22 August 2020

سرد آہوں نے میرے زخموں کو آباد کیا

سرد آہوں نے میرے زخموں کو آباد کِیا
دل کی چوٹوں نے جو رہ رہ کے تجھے یاد کیا
مہربانی میرے صیاد کی دیکھے کوئی
جب خزاں آئی، مجھے قید سے آزاد کیا
محفلِ ناز سے لایا جو یہاں تک ان کو
تُو نے یہ کام عجب اے دلِ ناشاد کیا
میکشوں نے اسے ساقی کا اشارہ سمجھا
جھک کے شیشے نے جو ساغر سے کچھ ارشاد کیا
دلِ بیتاب کو مشکل سے سنبھالا تھا مگر
ضبطِ غم نے مجھے آمادۂ فریاد کیا
کام جب کچھ نہ بنا عشق کی ناکامی سے
درد نے آپ مجھے آمادۂ بے داد کیا
خود  مجھے بھی نہیں بربادی کا احساس شجیع
اس سلیقے سے کسی نے مجھے برباد کیا

معظم جاہ شجیع

No comments:

Post a Comment