Saturday, 12 December 2015

اہل دل کے سوا کسے معلوم

اہلِ دل کے سوا کسے معلوم
درد خود ہے دوا کسے معلوم
شامِ فرقت وہ میرے پاس رہے
کون آیا گیا، کسے معلوم
ان سے پہلے ہوئے ہیں ہم رخصت
کب ہوئے وہ جدا کسے معلوم
جو نظر سے ہے دور، دل سے قریب
وہ نیا راستہ کسے معلوم
ہنس رہے ہیں مِری وفا پر سب
آپ ہیں بے وفا کسے معلوم
عشق میں ہم جئیں کہ مر جائیں
ان کی مرضی ہے کیا کسے معلوم
شبِ غم کٹ گئی شجیعؔ مگر
وقت کیونکر کٹا کسے معلوم

معظم جاہ شجیع

No comments:

Post a Comment