آتی ہے حال دل پہ ہنسی کم بہت ہی کم
ملتی ہے زندگی میں خوشی کم بہت ہی کم
اب تک تو وہ زندگی کی ضرورت نہ بن سکی
وہ اک خلش جو دل میں رہی کم بہت ہی کم
آئینہ دیکھ کر جو وہ دیکھا کیے مجھے
آ جائیے کہ آپ سے پہلے سحر نہ آئے
کچھ رات رہ گئی ہے ابھی کم بہت ہی کم
تکلیفِ دردِ دل بھی ضروری ہے عشق میں
تقدیر سے ملی ہے وہی کم بہت ہی کم
دل اضطرابَ درد سے تڑپتا ہے جب شجیعؔ
آنکھوں میں ان کی آئی نمی کم بہت ہی کم
معظم جاہ شجیع
No comments:
Post a Comment