زہر کیا سانپ کی اک شُوک سے مر جائیں گے
ہم وبا سے جو بچے، بھوک سے مر جائیں گے
غلطی پر ہمیں اکسائیں گے ایسے حالات
ہم یہاں اپنی کسی چُوک سے مر جائیں گے
صُور لے کر کھڑا رہ جائے گا یوں اسرافیل
ڈالا جاتا ہے جو ٹکڑا سگِ آوارہ کو
ہم بھی ایسے ہی کسی ٹُوک سے مر جائیں گے
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment