Monday, 24 August 2020

جو زندگی تھی اسی زندگی نے قتل کیا

ہمیں خوشی کی تڑپ تھی، خوشی نے قتل کِیا
جو زندگی تھی اسی زندگی نے قتل کیا
ضرور آدم و حوا کو رنج ہوتا ہے
جب آدمی کو کسی آدمی نے قتل کیا
ہزار خواہشِ اظہارِ عشق ادھوری رہی
گلِ سخن کو مِرے اجنبی نے قتل کیا
تُو بات کر کہ یہ ماحول زندہ ہو جائے
فضا کا حسن تِری خامشی نے قتل کیا
نہ جانے کتنے ہی ارمان دل میں دفن ہوئے
کوئی خودی نے کوئی بیخودی نے قتل کیا
بنا کے آپ ہی شہکار، مر گیا فنکار
کلام کرتی ہوئی مُورتی نے قتل کیا
کمان دار ہی پھر ذمہ دار ہوتا ہے
جو بے قصور کوئی، لشکری نے قتل کیا
میں مسکراتا ہوا ان کو زندہ کرتا ہوں
سو دشمنوں کو مِری شاعری نے قتل کیا
ہم اشک و گریہ میں مصروف ہیں علی یاسر
کبھی ہوا کہ کسی ماتمی نے قتل کیا

علی یاسر

No comments:

Post a Comment