Monday, 24 August 2020

میں ہوں صاف گو کسی پیش و پس میں نہ آؤں گا

میں ہوں صاف گو کسی پیش و پس میں نہ آؤں گا
تِرا وہم ہے، تِری دسترس میں نہ آؤں گا
مجھے روک لو،۔ میں چلا گیا، تو چلا گیا
کسی طور پھر میں تمہارے بس میں نہ آؤں گا
اسے کھینچ لایا پھر ایک دانۂ رزق ہی
وہ جو کہہ رہا تھا کہ میں قفس میں نہ آؤں گا
تجھے نام کر دوں گا میں کسی کے، جو ہو سکا
میری زندگی! میں تیری ہوس میں نہ آؤں گا
میں گلوں کی شکل میں آؤں گا تِرے سامنے
مِرے یار! صورتِ خار و خس میں نہ آؤں گا

علی یاسر

No comments:

Post a Comment