Monday, 24 August 2020

آب میں ذائقۂ شیر نہیں ہو سکتا

آب میں ذائقۂ شِیر نہیں ہو سکتا 
خواب تو خواب ہے تعبیر نہیں ہو سکتا 
مجھ کو پابندِ سلاسل کوئی جتنا کر لے 
پر مِرا عزم تو زنجیر نہیں ہو سکتا
ہر طرف غُل ہے شہنشاہ کی مرضی کے بغیر
اب کوئی لفظ بھی تحریر نہیں ہو سکتا
رزق جیسا ہے، مقدر میں لکھا ہوتا ہے
فن کسی شخص کی جاگیر نہیں ہو سکتا
ہم نے دروازۂ مژگاں پہ سجا رکھا ہے
وہ ستارا کہ جو تسخیر نہیں ہو سکتا

علی یاسر

No comments:

Post a Comment