ایک اور آخری دن
ان پڑھ
جاہل
گھامڑ عورت
تیرے ساتھ اب ایک بھی پل
میں نہیں رہوں گا
ابھی خریدوں گا اشٹام اور
آج ہی ہو گی لکھت پڑھت سب
آج یہ قصہ
ختم سمجھ لے
تیرے بعد تو جو بھی آئی
تجھ سے گھنی ہی بہتر ہو گی
میرے ساتھ یہ
آج ترا
بس آخری دن ہے
میرے ابو
اس دنیا کے سب سے اچھے ابو ہیں
لیکن آج
ذرا غصے میں تھے
تو نے
ارے تو نے
میرے سارے قیمتی کاغذ اور کتابیں
ردی والے کو
دے ڈالیں
آج تو خمیازہ بھگتے گی
چل
بچی کو ساتھ میں لے
اور
میرے پیچھے چلتی آ
ماں نے اپنا برقع پہنا
پھر
میرے ننھے پیروں میں
اونچی ایڑی والی ٹپ ٹپ کرتی
جھلمل سی جوتی پہنائی
میری انگلی کو تھاما
اور
ابا کے پیچھے پیچھے چل دی
تیز قدم ابا
اور ان کے پیچھے
آنسو پونچھتی
سست روی سے چلتی ماں
امی
آج کہاں جائیں گے
میں نے ڈری ڈری مدھم سی خوشی سے
پوچھا
کیا ہم سیر کو جائیں گے
آج تو
ہم بھی سیر کریں گے
ہے ناں امی
کہاں بھلا
جلدی جلدی چلو ناں امی
ابو غصے ہو جائیں گے
واپس گھر لے جائیں گے
دیکھو
ہم سے کتنا آگے نکل گئے ابو
دیکھو دیکھو
رکو ناں امی
یہ دیکھو
ہر مال ملے گا بارہ آنے میں والا بابا
امی
اس کے پاس ہے مانگ کا ٹیکا
کتنا اچھا کتنا پیارا
امی
پیسے ہیں نہ امی؟
امی میں ٹیکا پہنوں گی
مجھ کو ٹیکا لے دو ناں
اچھی سی میری پیاری امی
لے دو ناں
ماں نے کچھ سکے گن کر
دیے اسے
اور پھر
ہر مال سے ٹیکا لے دیا مجھ کو
افوہ
اتنی دیر
ابوغصے سے پلٹے
امی
میرے ماتھے پر وہ مانگ کا ٹیکا سجا رہی تھیں
میں اپنے ٹیکے کی جھل مل
دونوں ہاتھوں سے
چھو کر
دور سے بولی
ابو
دیکھو
ابو، ابو
اچھا ہے ناں؟
ہےناں ابو؟
ابو سارا منظر خاموشی سے دیکھ رہے تھے
پھر وہ ہمارے پاس آئے
ماں، میرا ماتھا چوم رہی تھی
ہاں میری بٹیا
بہت اچھا ہے
اور پھر
نادم نادم
آہستہ سے جھک کر بولے
چل شانو کی ماں
گھر چلتے ہیں
جاہل
گھامڑ عورت
تیرے ساتھ اب ایک بھی پل
میں نہیں رہوں گا
ابھی خریدوں گا اشٹام اور
آج ہی ہو گی لکھت پڑھت سب
آج یہ قصہ
ختم سمجھ لے
تیرے بعد تو جو بھی آئی
تجھ سے گھنی ہی بہتر ہو گی
میرے ساتھ یہ
آج ترا
بس آخری دن ہے
میرے ابو
اس دنیا کے سب سے اچھے ابو ہیں
لیکن آج
ذرا غصے میں تھے
تو نے
ارے تو نے
میرے سارے قیمتی کاغذ اور کتابیں
ردی والے کو
دے ڈالیں
آج تو خمیازہ بھگتے گی
چل
بچی کو ساتھ میں لے
اور
میرے پیچھے چلتی آ
ماں نے اپنا برقع پہنا
پھر
میرے ننھے پیروں میں
اونچی ایڑی والی ٹپ ٹپ کرتی
جھلمل سی جوتی پہنائی
میری انگلی کو تھاما
اور
ابا کے پیچھے پیچھے چل دی
تیز قدم ابا
اور ان کے پیچھے
آنسو پونچھتی
سست روی سے چلتی ماں
امی
آج کہاں جائیں گے
میں نے ڈری ڈری مدھم سی خوشی سے
پوچھا
کیا ہم سیر کو جائیں گے
آج تو
ہم بھی سیر کریں گے
ہے ناں امی
کہاں بھلا
جلدی جلدی چلو ناں امی
ابو غصے ہو جائیں گے
واپس گھر لے جائیں گے
دیکھو
ہم سے کتنا آگے نکل گئے ابو
دیکھو دیکھو
رکو ناں امی
یہ دیکھو
ہر مال ملے گا بارہ آنے میں والا بابا
امی
اس کے پاس ہے مانگ کا ٹیکا
کتنا اچھا کتنا پیارا
امی
پیسے ہیں نہ امی؟
امی میں ٹیکا پہنوں گی
مجھ کو ٹیکا لے دو ناں
اچھی سی میری پیاری امی
لے دو ناں
ماں نے کچھ سکے گن کر
دیے اسے
اور پھر
ہر مال سے ٹیکا لے دیا مجھ کو
افوہ
اتنی دیر
ابوغصے سے پلٹے
امی
میرے ماتھے پر وہ مانگ کا ٹیکا سجا رہی تھیں
میں اپنے ٹیکے کی جھل مل
دونوں ہاتھوں سے
چھو کر
دور سے بولی
ابو
دیکھو
ابو، ابو
اچھا ہے ناں؟
ہےناں ابو؟
ابو سارا منظر خاموشی سے دیکھ رہے تھے
پھر وہ ہمارے پاس آئے
ماں، میرا ماتھا چوم رہی تھی
ہاں میری بٹیا
بہت اچھا ہے
اور پھر
نادم نادم
آہستہ سے جھک کر بولے
چل شانو کی ماں
گھر چلتے ہیں
شہناز پروین سحر
No comments:
Post a Comment