Saturday, 22 August 2020

بے ثمر موسموں میں جنمی ہوں

بے ثمر موسموں میں جنمی ہوں
زرد پتوں کا دکھ سمجھتی ہوں
رفتگاں بھید اوڑھ لیتے ہیں
اپنے ابا کی قبر ڈھونڈتی ہوں
میرا بچپن بچھڑ گیا مجھ سے
اک سہیلی سے روٹھ بیٹھی ہوں
خامشی کی گپھاؤں میں اکثر
اپنی آواز سن کے سہمی ہوں
گھر کی دیوار میں ہی رہتا ہے
ایک سائے سے ڈرتی رہتی ہوں
مجھ کو بارش عزیز ہے، لیکن
کھڑکیاں بند کر کے روتی ہوں
خواب کی اور خیال کی دنیا
جا چکوں کے قریب رہتی ہوں
وہ جو اک بے وفا کی خاطر تھے
اب انہی آنسوؤں پہ ہنستی ہوں
آپ ہی اپنی ماں رہی ہوں سحر
ماں ہی جیسی دکھائی دیتی ہوں

شہناز پروین سحر

No comments:

Post a Comment