Saturday, 22 August 2020

کسی گرداب کی پھینکی پڑی ہے

کسی گرداب کی پھینکی پڑی ہے
لبِ ساحل جو اک کشتی پڑی ہے
حقیقت میں وہی سیدھی پڑی ہے
مجھے اک چال جو الٹی پڑی ہے
سفر الجھا دیئے ہیں اس نے سارے
میرے پیروں میں جو تیزی پڑی ہے
وہ "ہنگامہ" گزر جاتا ادھر سے
مگر رستے میں خاموشی پڑی ہے
ہوا ہے قتل بے داری کا جب سے
یہ بستی رات دن سونی پڑی ہے
پتنگ کٹنے کا باعث اور ہے کچھ
اگرچہ ڈور بھی الجھی پڑی ہے
ذرا کوئل کا پنجرہ کھل گیا تھا
ابھی تک خوف سے سہمی پڑی ہے
بڑی بنجر تھی یہ کھیتی لیاقت
مگر کچھ روز سے سینچی پڑی ہے

لیاقت جعفری

No comments:

Post a Comment