Saturday, 22 August 2020

مسلسل اشک باری کر رہا تھا

مسلسل اشکباری کر رہا تھا 
میں اپنی آبیاری کر رہا تھا 
مجھے وہ خواب پھر سے دیکھنا تھا 
میں خود پہ نیند طاری کر رہا تھا 
کئی دن تک تھا میری دسترس میں 
میں اب دریا کو جاری کر رہا تھا 
مجھے رک رک کے پنچھی دیکھتے تھے 
میں پتھر پر سواری کر رہا تھا 
گزرنا تھا بہت مشکل ادھر سے 
دریچہ چاند ماری کر رہا تھا 
سفینے سب کے سب غرقاب کر کے 
سمندر آہ و زاری کر رہا تھا 
مجھے فطرت بھی گھستی جا رہی تھی 
میں خود بھی ریگ ماری کر رہا تھا 
میری ڈیوٹی تھی خیموں کی حفاظت 
مگر میں آب داری کر رہا تھا 
ستارے ٹمٹمانا رک گئے تھے 
میں پھر اختر شماری کر رہا تھا 
مجھے بھڑنا تھا کس وحشی سے لیکن 
میں کس پاگل سے یاری کر رہا تھا 
بہت سے کام کرنے تھے لیاقت 
جنہیں میں باری باری کر رہا تھا 

لیاقت جعفری

No comments:

Post a Comment