کر کے اسیر جسم سزا دی گئی مجھے
یوں عمر بھر کی قید سنا دی گئی مجھے
اڑتی رہی فلک پہ ستاروں کی اوڑھنی
سر سے بہت ہی دور رِدا دی گئی مجھے
اوپر تلے ہیں سنگِ حیات اور سنگِ مرگ
اس کو عطا ہوئی ہیں گلوں کی صباحتیں
صحراؤں کی سی آب و ہوا دی گئی مجھے
دے دے کے خواہشوں کو مِری کانچ کے بدن
کس درجہ احتیاط سکھا دی گئی مجھے
ایڑی اٹھا کے ساتھ نبھانا پڑا سحر
قد سے بہت بلند انا دی گئی مجھے
شہناز پروین سحر
No comments:
Post a Comment