Saturday, 22 August 2020

کر کے اسیر جسم سزا دی گئی مجھے

کر کے اسیر جسم سزا دی گئی مجھے
یوں عمر بھر کی قید سنا دی گئی مجھے
اڑتی رہی فلک پہ ستاروں کی اوڑھنی
سر سے بہت ہی دور رِدا دی گئی مجھے
اوپر تلے ہیں سنگِ حیات اور سنگِ مرگ
چکی کے دونوں پاٹ میں جا دی گئی مجھے
اس کو عطا ہوئی ہیں گلوں کی صباحتیں
صحراؤں کی سی آب و ہوا دی گئی مجھے
دے دے کے خواہشوں کو مِری کانچ کے بدن
کس درجہ احتیاط سکھا دی گئی مجھے
ایڑی اٹھا کے ساتھ نبھانا پڑا سحر
قد سے بہت بلند انا دی گئی مجھے

شہناز پروین سحر

No comments:

Post a Comment