گزرا ہے وقت گر تو گزر کر کدھر گیا
ساکن اگر رہا تو کہاں پر سفر گیا؟
اِک تم حجابِ ذات سے باہر نہ آ سکی
اِک میں کہ اپنی حد سے بھی آگے گزر گیا
جانو کہ زندگی کی بقاء آرزو سے ہے
خوشبو نہ تازگی نہ ہواؤں میں نغمگی
بے نور دشتِ جاں ہے کہ دل سے گزر گیا
دیکھو! تمہاری سطح سے اونچا سوال ہے
کیسے بلندیوں پہ وہ بے بال و پَر گیا
میرے وجود سے تھا تماشہ یہاں ندیم
میں کیا گیا کہ ساتھ سبھی خیر و شر گیا
جاوید ندیم
No comments:
Post a Comment