Saturday, 22 August 2020

گزرا ہے وقت گر تو گزر کر کدھر گیا

گزرا ہے وقت گر تو گزر کر کدھر گیا
ساکن اگر رہا تو کہاں پر سفر گیا؟
اِک تم حجابِ ذات سے باہر نہ آ سکی
اِک میں کہ اپنی حد سے بھی آگے گزر گیا
جانو کہ زندگی کی بقاء آرزو سے ہے
مشکل بہت ہے راہ جو شوقِ سفر گیا
خوشبو نہ تازگی نہ ہواؤں میں نغمگی
بے نور دشتِ جاں ہے کہ دل سے گزر گیا
دیکھو! تمہاری سطح سے اونچا سوال ہے
کیسے بلندیوں پہ وہ بے بال و پَر گیا
میرے وجود سے تھا تماشہ یہاں ندیم
میں کیا گیا کہ ساتھ سبھی خیر و شر گیا

جاوید ندیم

No comments:

Post a Comment