وعدہ وہ تم نے مجھ سے کیا تھا، کہو نہیں
پھر اس کے بعد گزرا زمانہ، کہو نہیں
ہم نے جو تم سے پیار کیا تو کہا، کیا
تم نے مگر یہ راز چھپایا، کہو نہیں
یہ کیا ہوا کہ ملتے ہو اب غیر کی طرح
اب کیا کریں کہ بخت کا لکھا نہ ٹل سکا
میں نے بھی تم کو دل سے تھا چاہا، کہو نہیں
اقرار کر کے بھی تھا مکرنے کا احتمال
پوچھا تھا اس لیے ہی دوبارہ، کہو نہیں
اب تم کو میرا ذکر گوارہ نہیں، پہ کل
ہوتا تھا اپنے عشق کا چرچہ، کہو نہیں
رشتوں کے سارے پیڑ وہ خاشاک سے اڑے
طوفان زندگی میں وہ آیا، کہو نہیں
کل تک تھی آرزو مِری قربت کی اور اب
کرنے لگے ہو مجھ سے کنارہ، کہو نہیں
اب تم ہو اپنی دنیا میں مسرور و مطمئن
اور میں یہیں ہوں بخت کا مارا، کہو نہیں
کیا میں نہیں تھا کل تمہیں جاں سے عزیز
مجھ سے رہا تھا پیار کا رشتہ، کہو نہیں
اب آ گیا تو کیوں بھلا کرتے نہیں ہو بات
تم نے ہی مجھ کو خود تھا بلایا، کہو نہیں
چاہت تھی درمیان، ندی کے بہاؤ سی
ملنا ہوا نہ پھر بھی ہمارا، کہو نہیں
ہم ساتھ ساتھ جب تھے کہاں تھیں صعوبتیں
لگتی تھی ہم کو دھوپ بھی سایہ، کہو نہیں
ہو کاروبارِ شوق کہ بیع اعتبار کی
تم کو ملا ندیم خسارہ، کہو نہیں
جاوید ندیم
No comments:
Post a Comment