خوف کہ وہ آئے گا
وہ عجب رات تھی
اس رات ہوائیں آئیں
سوکھے پتوں کے بھی گرنے کی صدائیں آئیں
جھاڑ فانوس بجے
دور کوئی چیخا
چاپ قدموں کی عجب آئی کہ دل ہلنے لگا
ایسی سنسان سیاہی میں
اکیلا میں تھا
کسی ٹوٹے ہوئے ویران جزیرے کی طرح
رات کا خوف نہ تھا
خوف تو اس کا تھا مجھے
وہ جو آ جاتا ہے چپ چاپ اندھیرے کی طرح
وہ جو کر جاتا ہے زخمی مِرا سینہ، مِرا دل
اپنے قدموں تلے ملتا ہے مِری آنکھوں کو
توڑ دیتا ہے مِرے سارے حسیں خوابوں کو
وہ نہیں آیا
مگر خوف تو قائم ہے ابھی
خوف آیا ہے تو پھر وہ بھی ضرور آئے گا
میرے سینے کو، مِرے دل کو کچل جائے گا
علی ظہیر
No comments:
Post a Comment