Saturday, 22 August 2020

خوف کہ وہ آئے گا

خوف کہ وہ آئے گا

وہ عجب رات تھی
اس رات ہوائیں آئیں
سوکھے پتوں کے بھی گرنے کی صدائیں آئیں
جھاڑ فانوس بجے
دور کوئی چیخا
چاپ قدموں کی عجب آئی کہ دل ہلنے لگا

ایسی سنسان سیاہی میں
اکیلا میں تھا
کسی ٹوٹے ہوئے ویران جزیرے کی طرح
رات کا خوف نہ تھا
خوف تو اس کا تھا مجھے
وہ جو آ جاتا ہے چپ چاپ اندھیرے کی طرح
وہ جو کر جاتا ہے زخمی مِرا سینہ، مِرا دل
اپنے قدموں تلے ملتا ہے مِری آنکھوں کو
توڑ دیتا ہے مِرے سارے حسیں خوابوں کو
وہ نہیں آیا
مگر خوف تو قائم ہے ابھی
خوف آیا ہے تو پھر وہ بھی ضرور آئے گا
میرے سینے کو، مِرے دل کو کچل جائے گا

علی ظہیر

No comments:

Post a Comment