کوئی شفقت بھری سرکار نہیں ہے گھر میں
جب سے بابا کی وہ دستار نہیں ہے گھر میں
عمرکی بڑھتی تھکن سانس کی بیمار گھُٹن
ایک کمرہ بھی ہوا دار نہیں ہے گھر میں
دکھ سنائیں، کبھی گھبرائیں تو سر ٹکرائیں
کبھی آواز میں مرہم، کبھی ماتھے پہ شکن
میں سمجھتی تھی اداکار نہیں ہے گھر میں
اپنی گفتار سے موہ لے گا زمانے بھر کو
بات کرنے کا روادار نہیں ہے گھر میں
جان لے لیتے ہیں کچھ سرد رویۓ اکثر
ہم سمجھتے ہیں کہ تلوار نہیں ہے گھر میں
وہ عیادت کے بہانے سے اگر آ بھی گیا
اس سے کہہ دینا کہ بیمار نہیں ہے گھر میں
کون ہے جو تمہیں جاتے ہوئے روکے گا سحر
کچھ رکاوٹ، کوئی انکار نہیں ہے گھر میں
شہناز پروین سحر
No comments:
Post a Comment