ہر حقیقت سے الگ، اور فسانوں سے پرے
منتظر ہوں میں تِرا سارے زمانوں سے پرے
پھر میں اک روز بڑی گہری اداسی سے ملا
بستیوں کے سبھی آباد مکانوں سے پرے
نہ زماں ہو، نہ مکاں ہو، نہ خلا ہو نہ خدا
عکس در عکس رلاتی تھیں مجھے جو آنکھیں
چھوڑ آیا ہوں انہیں آئینہ خانوں سے پرے
خواب دیکھا ہے، دعا کر کہ یہ جھوٹا نکلے
میں کہیں اشک فشاں تھا تِرے شانوں سے پرے
رونے دھونے کے لیے ہم نے بنایا ہوا ہے
اک ٹھکانہ، سبھی معلوم ٹھکانوں سے پرے
میں دعاؤں میں بھی کرتا ہوں تِرے نام کا ورد
تُو نہیں ہے مِری تسبیح کے دانوں سے پرے
میرے رونے سے خفا ہو کے وہ بولا، فارس
اپنی چیخوں کو تُو لے جا مِرے کانوں سے پرے
رحمان فارس
No comments:
Post a Comment