بچہ ہے، اس کو یوں نہ اکیلے کفن میں ڈال
ایک آدھ گڑیا، چند کھلونے کفن میں ڈال
کپڑے اسے پسند نہیں ہیں کھلے کھلے
چھوٹی سی لاش ہے، اسے چھوٹے کفن میں ڈال
ڈرتا بہت ہے کیڑے مکوڑوں سے اس کا دل
عیسیٰ کی طرح آج کوئی معجزہ دکھا
یہ پھر سے جی اٹھے، اسے ایسے کفن میں ڈال
دفنا اسے حسینؑ کے غم میں لپیٹ کر
یہ کربلائی ہے، اسے کالے کفن میں ڈال
ننھا سا ہے یہ پاؤں، وہ چھوٹا سا ہاتھ ہے
میرے جگر کے ٹکڑے کے ٹکڑے کفن میں ڈال
مجھ کو بھی گاڑ دے مِرے لختِ جگر کے ساتھ
سینے پہ میرے رکھ اسے، میرے کفن میں ڈال
سوتا نہیں ہے یہ مِری آغوش کے بغیر
فارس مجھے بھی کاٹ کے اس کے کفن میں ڈال
رحمان فارس
No comments:
Post a Comment