Friday, 4 September 2020

‎بچہ ہے اس کو یوں نہ اکیلے کفن میں ڈال

‎بچہ ہے، اس کو یوں نہ اکیلے کفن میں ڈال
‎ایک آدھ گڑیا، چند کھلونے کفن میں ڈال
‎کپڑے اسے پسند نہیں ہیں کھلے کھلے
‎چھوٹی سی لاش ہے، اسے چھوٹے کفن میں ڈال
ڈرتا بہت ہے کیڑے مکوڑوں سے اس کا دل
کاغذ پہ لکھ یہ بات اور اس کے کفن میں ڈال
‎عیسیٰ کی طرح آج کوئی معجزہ دکھا
‎یہ پھر سے جی اٹھے، اسے ایسے کفن میں ڈال
‎دفنا اسے حسینؑ کے غم میں لپیٹ کر
‎یہ کربلائی ہے، اسے کالے کفن میں ڈال
‎ننھا سا ہے یہ پاؤں، وہ چھوٹا سا ہاتھ ہے
‎میرے جگر کے ٹکڑے کے ٹکڑے کفن میں ڈال
‎مجھ کو بھی گاڑ دے مِرے لختِ جگر کے ساتھ
‎سینے پہ میرے رکھ اسے، میرے کفن میں ڈال
‎سوتا نہیں ہے یہ مِری آغوش کے بغیر
‎فارس مجھے بھی کاٹ کے اس کے کفن میں ڈال

رحمان فارس

No comments:

Post a Comment