اب کے صدی گرانی کی ہے
رشتوں کی ارزانی کی ہے
خط میں اس کو لکھنا تھا
دل کی بات زبانی کی ہے
وقت نے مجھ کو اوڑھا برتا
کس نے میرا بچپن کھیلا
کس نے بسر جوانی کی ہے
تم آئے تو تنہائی نے
دل سے نقل مکانی کی ہے
تم نے آ کر رنگ بھرا ہے
میری شام سہانی کی ہے
کس نے بانجھ کیا کھیتوں کو
گلیوں میں ویرانی کی ہے
شاہِ وقت نے ملک میں ہر سو
مرنے میں آسانی کی ہے
سلیم فگار
No comments:
Post a Comment