Friday, 4 September 2020

اب کے صدی گرانی کی ہے

اب کے صدی گرانی کی ہے
رشتوں کی ارزانی کی ہے
خط میں اس کو لکھنا تھا
دل کی بات زبانی کی ہے
وقت نے مجھ کو اوڑھا برتا
میری شکل پرانی کی ہے
کس  نے میرا بچپن کھیلا
کس نے بسر جوانی کی ہے
تم آئے تو تنہائی نے
دل سے نقل مکانی کی ہے
تم نے آ کر رنگ بھرا ہے
میری شام سہانی کی ہے
کس نے بانجھ کیا کھیتوں کو
گلیوں میں ویرانی کی ہے
شاہِ وقت نے ملک میں ہر سو
مرنے میں آسانی کی ہے

سلیم فگار

No comments:

Post a Comment