مانا عدو سے بر سرِ پیکار میں نہیں
میدان چھوڑنے کو بھی تیار میں نہیں
کس نے کہا ہے خاک سے اٹھنا نہیں مجھے
کس نے یہ کہہ دیا کہ فلک پار میں نہیں
مسمار کرنا چاہتا ہے کس لیے مجھے
مجھ کو نہ دیکھ شک بھری چبھتی نگاہ سے
جو تُو سمجھ رہا ہے مِرے یار، میں نہیں
میں نور بانٹتے ہوئے دن کا رفیق ہوں
شب کی سیاہیوں کا طرفدار میں نہیں
جو کچھ لکھا تھا بخت میں، میں نے کیا فگار
جو کچھ ہوا ہے اس کا گنہ گار میں نہیں
سلیم فگار
No comments:
Post a Comment