Friday, 4 September 2020

کبھی ستارے کی صورت کبھی قمر کی طرح

کبھی ستارے کی صورت کبھی قمر کی طرح
🌹تِرا خیال رہا ساتھ ہم سفر کی طرح🌹
فراق و وصل کے سب مرحلے تمام ہوۓ
وہ بس گیا ہے مِری آنکھ میں نظر کی طرح
گماں کے چاک پہ بیتے دنوں کی مٹی سے
نگار و نقش بناتا ہوں کوزہ گر کی طرح
وہ ایک تُو ہے جسے دعوٰئ خدائی ہے
بشر ہوں، کرتا ہوں میں زندگی بشر کی طرح
جنونِ شوق کی درماندگی نہ پوچھ اے دوست
کٹی ہے عمر مِری آہِ بے اثر کی طرح💢

فرتاش سید

No comments:

Post a Comment