کبھی ستارے کی صورت کبھی قمر کی طرح
🌹تِرا خیال رہا ساتھ ہم سفر کی طرح🌹
فراق و وصل کے سب مرحلے تمام ہوۓ
وہ بس گیا ہے مِری آنکھ میں نظر کی طرح
گماں کے چاک پہ بیتے دنوں کی مٹی سے
وہ ایک تُو ہے جسے دعوٰئ خدائی ہے
بشر ہوں، کرتا ہوں میں زندگی بشر کی طرح
جنونِ شوق کی درماندگی نہ پوچھ اے دوست
کٹی ہے عمر مِری آہِ بے اثر کی طرح💢
فرتاش سید
No comments:
Post a Comment