Friday, 4 September 2020

یہ کہاں مجھ کو مرے یار اٹھا لائے ہیں

بر سرِ🗡کوچۂ اغیار🗡 اٹھا لائے ہیں
یہ کہاں مجھ کو مِرے یار اٹھا لائے ہیں
آپ پر وار ہوئے میں نے وہ سینے پہ لیے
اور اب آپ بھی تلوار 🗡 اٹھا لائے ہیں
ان کے اسلوبِ فضیلت سے پتا چلتا ہے
یہ کسی اور کی دستار اٹھا لائے ہیں
میں نہ یوسف ہوں نہ سجاد ہوں فرتاش یہ لوگ
کیوں مجھے برسرِ بازار اٹھا لائے ہیں
جب کھُلا نامۂ اعمال، تو ہم پر یہ کھُلا
جو اٹھا لائے ہیں "بے کار" اٹھا لائے ہیں
ریت میں پھول کھِلانا ہمیں آتا ہے، سو ہم
عرصۂ دشت میں گھر بار اٹھا لائے
اک ذرا سا بھی نہیں بارِ ندامت دل پر
زر نہیں، دولتِ کردار اٹھا لائے ہیں

فرتاش سید

No comments:

Post a Comment