Sunday, 23 August 2020

یہ دستک اور یہ در میرا نہیں ہے

یہ دستک اور یہ در میرا نہیں ہے
اب اس بستی میں گھر میرا نہیں
میں کس بارود میں بکھری پڑی ہوں
یہ دھڑ میرا ہے، سر میرا نہیں ہے
مجھے میرے حوالے کر گیا ہے
تو کیا ہے وہ اگر میرا نہیں ہے
جو میرے ساتھ چلتا جا رہا ہے
وہ سایہ ہے، مگر میرا نہیں ہے
سحر! یہ اور ہی دنیا ہے کوئی
یہاں کوئی بھی ڈر میرا نہیں ہے

شہناز پروین سحر

No comments:

Post a Comment