یہ دستک اور یہ در میرا نہیں ہے
اب اس بستی میں گھر میرا نہیں
میں کس بارود میں بکھری پڑی ہوں
یہ دھڑ میرا ہے، سر میرا نہیں ہے
مجھے میرے حوالے کر گیا ہے
جو میرے ساتھ چلتا جا رہا ہے
وہ سایہ ہے، مگر میرا نہیں ہے
سحر! یہ اور ہی دنیا ہے کوئی
یہاں کوئی بھی ڈر میرا نہیں ہے
شہناز پروین سحر
No comments:
Post a Comment