Sunday, 23 August 2020

سورج کی کرن کا شعبدہ ہے

سورج کی کرن کا شعبدہ ہے
رنگِ رخِ زرد اڑ گیا ہے
نقشِ کفِ پا نے گل کھلائے
ویراں کہاں اب یہ راستہ ہے
جاگ اٹھی ہیں زندگی کی راہیں
شاید کوئی چاند کو گیا ہے
شعلوں سے ہوا تھا باغ خالی
پھر سینۂ گل بھڑک اٹھا ہے
پتے پتے کا رنگ بدلا
بدلی بدلی ہوئی فضا ہے
پہلے تو نہ یوں کبھی ہوا تھا
تُو بھی مجھ دیکھ کر ہنسا ہے
بے گانگی نے یہ راز کھولا
تُو میرا ازل سے آشنا ہے
شبنم سرِ نوکِ خار، یعنی
لب پہ مِرے حرفِ مدعا ہے
ہر درد نہیں دوا کا محتاج ہے
یوں بھی تو علاجِ غم ہوا ہے
تیرا ہی رہے گا بول بالا
دل میرا عبث دھڑک رہا ہے

قیوم نظر

No comments:

Post a Comment