Saturday, 1 November 2014

اب ہمیں ترک تعلق کے نئے گہنے دے

اب ہمیں ترکِ تعلق کے نئے گہنے دے
اشک کو آنکھ میں حیران پڑا رہنے دے
ہم تِرے دل کے مہاجر ہیں ہمیں حوصلہ دے
آخری بار جو کہنا تھا وہ سب کہنے دے
فون بے کار ہے چپ چاپ پڑا رہتا ہے
ایک گھنٹی سی بلاتی ہے مگر رہنے دے
ہم خزاں بخت ہیں سرسبز نہیں ہو سکتے
درد کی جتنی اذیت ہے ہمیں سہنے دے
چاند کا عکس سمندر میں جلا ہے برسوں
دلِ نادان! سمندر کو دیا کہنے دے
اتنے بد شکل ہیں حالات کہ ڈر لگتا ہے
رقصِ گریہ کو بپا رہنا ہے تو رہنے دے
شہر میں کتنے ہی گھر لے گیا سیلاب سحر
اک تِرا گھر بھی اگر بہہ گیا تو بہنے دے

شہناز پروین سحر

No comments:

Post a Comment