Sunday, 23 August 2020

دن ہوا اور روشنی ہی نہیں

دن ہوا اور روشنی ہی نہیں
چاند نکلا تو چاندنی ہی نہیں
بیچ جنگل میں راہ بھولی تھی
لوٹ کر گھر کبھی گئی ہی نہیں
حال اور ماضی ایک جیسے ہیں
وقت سے میری دوستی ہی نہیں
میری آنکھوں کو لے اڑا بادل
ایسی بارش ہوئی، تھمی ہی نہیں
بے سہارا تھکن ہے اور میں ہوں
منزلِ عشق تک چلی ہی نہیں
کچھ ستاروں نے خودکشی کر لی
کچھ ستاروں میں سانس تھی ہی نہیں
یہ سحر! آئینے میں کون ہے اب
میری صورت مجھے ملی ہی نہیں

شہناز پروین سحر

No comments:

Post a Comment