Sunday, 23 August 2020

اگر خوشی میں تجھے گنگناتے لگتے ہیں

اگر خوشی میں تجھے گنگناتے لگتے ہیں
تو لوگ شہر سے آنسو بہانے لگتے ہیں
نکل کے آنکھ سے لفظوں میں آنے لگتے ہیں
میاں! یہ اشک ہیں، یونہی ٹھکانے لگتے ہیں
گزر چکے ہیں کسی عکس کی معیت میں
ہم ایسے لوگ جو آئینہ خانے لگتے ہیں
شجر ہوں اور  پرندوں سے  ہے بہار مِری
یہ مجھ پہ آئیں، تو پھل پھول آنے لگتے ہیں
کریں تو کیا؟ ہمیں انبوہِ خواب روکتا ہے
کبھی جو سوۓ ہوؤں کو جگانے لگتے ہیں
ہم آئینے میں تِرا عکس دیکھنے کے لیے
کئی چراغ🪔 ندی میں بہانے لگتے ہیں

اشفاق ناصر

No comments:

Post a Comment