اگر خوشی میں تجھے گنگناتے لگتے ہیں
تو لوگ شہر سے آنسو بہانے لگتے ہیں
نکل کے آنکھ سے لفظوں میں آنے لگتے ہیں
میاں! یہ اشک ہیں، یونہی ٹھکانے لگتے ہیں
گزر چکے ہیں کسی عکس کی معیت میں
شجر ہوں اور پرندوں سے ہے بہار مِری
یہ مجھ پہ آئیں، تو پھل پھول آنے لگتے ہیں
کریں تو کیا؟ ہمیں انبوہِ خواب روکتا ہے
کبھی جو سوۓ ہوؤں کو جگانے لگتے ہیں
ہم آئینے میں تِرا عکس دیکھنے کے لیے
کئی چراغ🪔 ندی میں بہانے لگتے ہیں
اشفاق ناصر
No comments:
Post a Comment