عکس کو پھول بنانے میں گزر جاتی ہے
زندگی، آئینہ خانے مں گزر جاتی ہے
شام ہوتی ہے تو لگتا ہے کوئی روٹھ گیا
اور شب، اس کو منانے میں گزر جاتی ہے
ہر محبت کےلیے دل میں الگ خانہ ہے
زندگی بوجھ بتاتا تھا، بتانے والا
یہ تو بس ایک بہانے میں گزر جاتی ہے
تُو بتا، آنکھ نیا خواب کہاں سے دیکھے؟
روز شب تجھ کو بھلانے میں گزر جاتی ہے
وہ چلا جاتا ہے اور ساعتِ رخصت اشفاق
جسم کا بوجھ اٹھانے میں گزر جاتی ہے
اشفاق ناصر
No comments:
Post a Comment