عجب اِک زہر گھلتا جا رہا ہے
کوئی دل سے اترتا جا رہا ہے
جنوں کی آخری منزل ہے گویا
کوئی گِر کر سنبھلتا جا رہا ہے
چھپایا تھا جسے مشکل سے دل میں
اسے کھویا تھا کچھ پانے کی خاطر
جو پایا تھا، بکھرتا جا رہا ہے
مسلمانی ہے، یا آتش پرستی
یہ اپنا گھر کیوں جلتا جا رہا ہے
بہت نزدیک ہے اب وقتِ آخر
یہ شعلہ اب بھڑکتا جا رہا ہے
نیلما درانی
No comments:
Post a Comment