وہ مِری خوش لباس کیسی ہے
اس کے تن کی کپاس کیسی ہے
جس نے ہر سو زمین کی سیراب
اس سمندر کی پیاس کیسی ہے
جسے کوئی زمیں محبت کی
جو زمیں کی تھی اور زمیں کی نہ تھی
وہ زمیں ناشناس کیسی ہے
جسے خوش تاب تھی حیات مگر
جی سے تھی جو اداس، کیسی ہے
وہ کہ تھی کاروبار ہستی میں
کچھ عجب بدحواس، کیسی ہے
وہ کہ لرزاں تھی اپنی ذات سے بھی
وہ سراپا ہراس کیسی ہے
جس کی تعمیر سب خیالی تھی
ہاں! وہی بے اساس کیسی ہے
ہم تو ویراں ہوئے ہیں اس کے بغیر
کچھ کہو! وہ اداس کیسی ہے
طارق بٹ
No comments:
Post a Comment