کتنوں ہی کے سر سے سایہ جاتا ہے
جب اک پیپل کاٹ گرایا جاتا ہے
دھرتی خود بھی کھا جاتی ہے فصلوں کو
چڑیوں پر الزام لگایا جاتا ہے
پیاسوں سے ہمدردی رکھی جاتی ہے
جب شخصیت آوازوں کی تابع ہو
بے مقصد بھی شور مچایا جاتا ہے
دل کے سو سو ٹکڑے جب ہو جاتے ہیں
تب تھوڑا سا درد کمایا جاتا ہے
جھوٹے سچے خواب خریدے جاتے ہیں
پیڑھی پیڑھی قرض چکایا جاتا ہے
بھائی ظفرؔ پہلے جیتو اس کا وشواس
دھیرے دھیرے رنگ جمایا جاتا ہے
ظفر گورکھپوری
No comments:
Post a Comment