Monday, 5 December 2016

کتنوں ہی کے سر سے سایہ جاتا ہے

کتنوں ہی کے سر سے سایہ جاتا ہے
جب اک پیپل کاٹ گرایا جاتا ہے
دھرتی خود بھی کھا جاتی ہے فصلوں کو
چڑیوں پر الزام لگایا جاتا ہے
پیاسوں سے ہمدردی رکھی جاتی ہے
بادل اپنے گھر برسایا جاتا ہے
جب شخصیت آوازوں کی تابع ہو
بے مقصد بھی شور مچایا جاتا ہے
دل کے سو سو ٹکڑے جب ہو جاتے ہیں
تب تھوڑا سا درد کمایا جاتا ہے
جھوٹے سچے خواب خریدے جاتے ہیں
پیڑھی پیڑھی قرض چکایا جاتا ہے
بھائی ظفرؔ پہلے جیتو اس کا وشواس
دھیرے دھیرے رنگ جمایا جاتا ہے

ظفر گورکھپوری

No comments:

Post a Comment