Saturday, 10 July 2021

بلندی سے اتارے جا چکے ہیں

 بلندی سے اتارے جا چکے ہیں

زمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیں

دکھائے بیچ دریا کون رستہ؟

فلک خالی ہے تارے جا چکے ہیں

معانی کیا رہے خودداریوں کے

کہ دامن تو پسارے جا چکے ہیں

یہ پورا سچ ہے تم مانو نہ مانو

کہ اچھے دن تمہارے جا چکے ہیں

بھنک تک بھی نہ پہنچی اس کی ہم تک

ہمارے دن گزارے جا چکے ہیں

اب اس اندھے کنوئیں کو بند کر دو

کئی بچے ہمارے جا چکے ہیں


ظفر گورکھپوری

No comments:

Post a Comment