ستم تو یہ ہے ستمگر کی آنکھ کا دکھ ہوں
ستمگروں سے مراسم ہزار رکھتا ہوں
سرور چیز محبت کا بدل ہے تو نہیں
میں آپ اپنے تئیں انحصار رکھتا ہوں
کوئی بھی بات مِرے ذہن میں نہیں رہتی
میں اب خزاؤں میں اکثر بہار رکھتا ہوں
میں اب تو وصل کے بارے میں سوچتا ہی نہیں
مگر لبوں پہ میں ہر دم پکار رکھتا ہوں
میں چاہتوں کے تقاضوں سے باز رہتا ہوں
کہ چاہتوں میں محبت حصار رکھتا ہوں
معاذ فرہاد
No comments:
Post a Comment