Saturday, 10 July 2021

وہ بد دعا اسے سمجھے اگر دعا لکھوں

 وہ بد دعا اسے سمجھے، اگر دعا لکھوں

اب ایسے شخص کو میں اپنا حال کیا لکھوں

کسی کا ذوقِ سماعت قصور وار نہیں

میں کیوں نہ حرفِ تمنا کو بے صدا لکھوں

اب آتے لمحوں کے آثار یہ بتاتے ہیں

جو وقت بیت گیا اس کو حادثہ لکھوں

مجھے تعلقِ خاطر ہو کیا زمانے سے

کسی کے نام بھی خط ہو، تِرا پتا لکھوں

اسی خیال سے فکرِ سخن میں غلطاں ہوں

میں چاہتا ہوں کہ مضموں کوئی نیا لکھوں

یہ خود ستائی کے پہلو، یہ احتیاط حیات

کبھی تو صاف کوئی اپنا واقعہ لکھوں


حیات لکھنوی

No comments:

Post a Comment