یہی کہ حجرۂ گل میں اسیر خوشبو تھی
کھُلا نہیں کہ کہاں تک فقیر خوشبو تھی
ہم ایک باغ کی ہمسائیگی میں ہوتے ہوئے
لپٹ رہے تھے ہوا سے، اخیر خوشبو تھی
نظر میں لمس چبھوتی سفید کرنیں تھیں
بدن میں رنگ رچاتی شریر خوشبو تھی
یہ زندگی کوئی دورانیہ تھا حبس کا اور
قلیل وقت کی حد میں کثیر خوشبو تھی
ہمارے جسم سے جھڑتی ہے اور مہکتی ہے
وہ گردِ لمس کہ جس کا خمیر خوشبو تھی
اس آرزو کی معیشت میں دم ہی گھٹنا تھا
ترا پیام تھا آجر، اجیر خوشبو تھی
ہمارے شام کدے میں شرابِ سرخ تھی آگ
ہماری خواب سرائے میں تیر خوشبو تھی
نواحِ جاں میں گھنے جنگلوں کا سایہ تھا
قدیم پانیوں والی خطیر خوشبو تھی
خمار میرزادہ
No comments:
Post a Comment