گھڑی بھر بھی کبھی مجھے تنہا ہونے نہیں دیتے
یہ میرے چاہنے والے مجھے سونے نہیں دیتے
میرے سر پہ میری ماں کی دعاؤں کے جو سائے ہیں
سفر میں یہ کہیں بھی حادثہ ہونے نہیں دیتے
پرائے دکھ میں رو رو کے گزاری زندگی میں نے
مگر میرے ہی غم مجھ کو کبھی رونے نہیں دیتے
جو رب چاہے تو پل بھر میں مہک اٹھیں کئی فصلیں
مگر موسم یہ ایسے ہیں جو کچھ بونے نہیں دیتے
قمر اعجاز
No comments:
Post a Comment