Friday, 18 December 2020

گھڑی بھر بھی کبھی مجھے تنہا ہونے نہیں دیتے

 گھڑی بھر بھی کبھی مجھے تنہا ہونے نہیں دیتے

یہ میرے چاہنے والے مجھے سونے نہیں دیتے

میرے سر پہ میری ماں کی دعاؤں کے جو سائے ہیں

سفر میں یہ کہیں بھی حادثہ ہونے نہیں دیتے

پرائے دکھ میں رو رو کے گزاری زندگی میں نے

مگر میرے ہی غم مجھ کو کبھی رونے نہیں دیتے

جو رب چاہے تو پل بھر میں مہک اٹھیں کئی فصلیں

مگر موسم یہ ایسے ہیں جو کچھ بونے نہیں دیتے


قمر اعجاز

No comments:

Post a Comment